لندن 24اگست (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) راہل گاندھی نے لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سرجیکل اسٹرائیک اورڈوکلام بحران جیسے موضوعات پر تبصرے کئے ۔آر ایس ایس پر گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس بھارت کی تکثیریت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ دوسری کوئی تنظیم ہندوستان کے اداروں پر قبضہ یا حملہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔راہل گاندھی نے کہا کہ اب ہم اس ایک نئے قسم کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عرب دنیا کے اخوان المسلمون کے فکر کے مماثل ہے ۔راہل نے الزام لگایا کہ ان کا خیال ہے کہ ملک میں ایک ہی خیال کی حکومت ہونی چاہئے۔راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کے4 ججوں کی جانب سے بلائی گئی پریس کانفرنس کی مثال بھی دی ۔ راہل کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے ان کے خلاف ہلہ بول دیا ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا ہے کہ راہل گاندھی کے اندر صرف آر ایس ایس، بی جے پی اور مودی کے لئے نفرت بھری ہے۔ سمبت پاترا نے کہا کہ ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمون سے موازنہ کیلئے راہل گاندھی کو معافی مانگنی چاہئے۔واضح ہو کہ اخوان المسلمون بلاد عرب کے کئی ممالک میں مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی تنظیم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عربیہ ، مصر، جارڈن وغیرہ نے اس پر پابندی لگار کھی ہے ۔اس کا قیام مصر میں1928 میں استاد شہیدامام حسن البنا ؒ کے ذریعہ عمل میں آیا تھا ۔
کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ گزشتہ 7 عشروں کے دوران اقتدار کی غیر مرکزیت کی وجہ سے ہندوستان میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ ایک طاقتور ملک بن کر ابھرا لیکن مودی حکومت کے چار برسوں کے دوران اقتدار کی مرکزیت کی وجہ سے ملک کمزور ہوگیا ہے ۔مسڑ گاندھی نے لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں جمعہ کو منعقد ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے اقتدار کی غیر مرکزیت کی وجہ سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن گزشتہ چار برسوں میں صورت حال بدل گئی ہے اور اس دوران بڑے پیمانے پر اقتدار کی مرکزیت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کمزور ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سوا ارب سے زیادہ آبادی میں تفریق نہیں کی جانی چاہئے اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو ہندوستان کی طاقت کم ہوجائے گی۔
کانگریس صدر نے کہا کہ آج میں ہندوستان کو اپنی طاقت بڑھاتے نہیں دیکھ پارہا ہوں۔ موجودہ حکومت کے بارے میں میری اہم شکایتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مجھے ہندوستان کی طاقت کے مطابق کوئی مضبوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے ۔ مجھے صرف فوری ردعمل ہی نظرآ رہا ہے ۔مسٹر راہل گاندھی نے نوٹ بندی کے سلسلے میں مودی حکومت پر طنزکرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کا خیال وزیر خزانہ اور ریزرو بینک کو نظرانداز کرکے ، براہ راست راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے آیا اور وزیراعظم کے دماغ میں بٹھادیا گیا۔مسٹر گاندھی نے چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین آگے بڑھ رہا ہے اورجس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ اس صورت حال میں ہندوستان دنیا میں توازن کا رول ادا کرسکتا ہے اور دنیا کو محفوظ جگہ بنانے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گرچہ چین کے ساتھ ہندوستان کی روایتی تاریخ رہی ہے لیکن جہاں تک جمہوری ڈھانچہ کی بات ہے ہندوستان یوروپی ممالک سے زیادہ قریب ہے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتاپارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )پر نفرت پھیلانے اور نفرت کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ وہ ملک کو بانٹنے کا کام کررہے ہیں ۔مسٹر گاندھی نے جرمنی کی راجدھانی برلن میں جمعرات دیرشب کانگریس کے غیر مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انکی پارٹی سبھی کے لئے یکساں طورپر کام کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مودی حکومت الگ طرح سے کام کررہی ہے ۔
انھوں نے کہاکہ آج ہمارا مقابلہ چین کے ساتھ ہے لیکن بی جے پی اور آرایس ایس ہمیں بانٹ رہے ہیں اور نفرت پھیلارہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ کانگریس ملک کی یکجہتی اور سا لمیت کے لئے مسلسل کام کرتی رہے گی ۔کانگریس صدر نے کہاکہ کثرت میں وحدت ہندوستان کی طاقت ہے اور سماج کی آخری قطار میں کھڑے فرد کوبااختیار بنا نا ہمارا کام ہے ۔یہ سبھی مذاہب کا اصول ہے اور کانگریس اسی مقصدسے سبھی کے مفاد کے لئے کام رہی ہے۔راہل گاندھی نے بے روزگاری کے تعلق سے مودی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہاکہ چین کی حکومت روزانہ50ہزار نوجوانوں کو روزگار دے رہی ہے جبکہ ہندوستان کی حکومت روزانہ محض 400 نوجوانوں کو روزگار فراہم کررہی ہے ۔انھوں نے کہاکہ ایک طرف نوجوانوں کے سامنے روزگار کا بحران ہے اور دوسری طرف مودی حکومت نفرت پھیلانے کا کام کرہی ہے ۔